زندگی کو ضروریات تک محدود رکھیے

پاکستان سے ایک بیچاری لڑکی خواہشات کی تلاش میں ساؤتھ افریقہ چلی گئی۔ وہاں جا کر ایک اسٹور پر ملازم ہوئی، وہیں اس کی آشنائی ایک نوجوان ملازم لڑکے سے ہوئی۔ وہ نوجوان بھی خواہشات کی تلاش میں پاکستان سے نکلا تھا۔ اس نے لڑکی کو خواب دکھایا کہ دونوں مل کر عدالتی شادی( پیپر میرج) کر لیں تاکہ ان دونوں کے کاغذات بن جائیں اور وہ بآسانی کسی بھاری کرنسی والے یورپی ملک کی طرف سفر کر سکیں۔

نوجوان نے نے لڑکی کو قائل کیا کہ اس مقصد کے لیے چو نکہ کافی زیادہ اخراجات آئیں گے لہٰذا وہ دونوں مل کر ایک بڑی رقم کا بندوبست کریں گے۔ بیچاری لڑکی نے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی عزت اور رقم کی شکل میں نوجوان کے حوالے کردی اور وہ ندیدہ شخص رقم لیتے ہیں رفوچکر ہو گیا۔

نوجوان کے فرار ہونے کے بعد اسٹور کے مالکان نے لڑکی کو بھی ملازمت سے فارغ کر دیا اور وہ اجنبی ملک کی شاہراہوں پر پریشان حال پھر تی ر ہی۔ اسی اثناء میں ایک بہت بڑی کاروباری فرم کے مالک کی نظر اس پر پڑی۔

اس کاروباری شخص کے سینکڑوں ملازمین تھے جن کے کھانے پینے کا بندوبست ہوٹل سے کرنا اسے بہت مہنگا پڑتا تھا۔ لڑکی اسے لقمہ تر نظر آئی اور وہ ا سے ملازمین کا کھانا بنانے کیلئے بطور نوکرانی ساتھ لے گیا۔

بیچاری اکیلی بنت حوا کے لئے اتنے سارے افراد کا دو وقت کا کھانا بنانا کوئی آسان کام تھوڑی تھا۔۔۔۔؟

چند دنوں کے بعد لڑکی کو فالج ہو گیا۔ اب وہ بیچاری فرم کے مالک کے کام کی نہ رہی تھی لہٰذا اس نے اسے نکال باہر کیا۔ ایک بار پھر بیماری کی تکلیف سہتے ہوئے سڑکوں کی خاک چھاننا اس کا مقدر ٹھہرا۔

وہ سڑکوں پر گزرتی ہوئی سواریوں میں کسی پاکستانی وضع قطع والے شخص کو دیکھتے ہی اسے روک کر اپنی داستان غم سنانے کی کوشش کرتی۔ بالآخر صاحب مبارک کے جاننے والے ایک عیالدار صوفی صاحب نے اسے اپنے گھر میں پناہ دی اور ایک خیراتی ادارے کے توسط سے اس کا علاج شروع ہوا۔

جب صاحب مبارک اپنی تبلیغی دورے پر ساوتھ افریقہ تشریف لے گئے وہ بے چاری باپردہ آپ کے پاس حاضر ہوئی اور دعا کے لئے التماس کی۔ صاحب مبارک نے ساؤتھ افریقہ سے واپس تشریف لانے کے بعد آستانہ عالیہ ریحان والا شریف کی ماہانہ تربیتی نشست پر یہ واقعہ ارشاد فرمایا۔

صاحب مبارک اکثر اپنے مریدین کو کو قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت کریمہ پڑھ کر سمجھایا کرتے ہیں کہ اپنی زندگی کو ضروریات تک محدود رکھو اور خواہشات کے میدان میں نہ نکلو کیوں کہ ضرورت ایسی چیز ہے جو اللہ پاک فقیروں کی پوری فرما دیتا ہے جب کہ خواہشات بادشاہوں کی بھی ادھوری رہ جاتی ہیں۔

"تمہیں زیادہ مال جمع کرنے کی ہوس نے غافل کردیا ۔ یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے” سورۃ التکاثر۔

ایک بار آپ لاہور میں رہنے والے ایک شخص کا قصہ سنا رہے تھے جس کا والد 50 لاکھ کا مکان وراثت میں چھوڑ کر مرا۔ اس شخص کی اکلوتی بہن نے اپنے بھائی سے تقاضہ کیا کہ اسے وراثت میں پورا حصہ نہ سہی فقط دس لاکھ روپیہ دے دے اور بقیہ جائیداد خود رکھ لے۔ بھائی کو ایک طرف دس لاکھ روپیہ اور دوسری طرف اپنی بہن نظر آئی۔

اس نے دولت کے لالچ میں راتوں رات اپنی بہن کا قتل کر دیا۔ پولیس کو خبر ہوئی تو قاتل کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے بھائی تک جا پہنچے اور گرفتار کر کے قید کر لیا۔ بے چاری جائیداد کی امیدوار بہن موت کے گھاٹ اتار دی گئی، بھائی عمر بھر کے لئے جیل کا قیدی بن گیا اور پچاس لاکھ روپے کا مکان اپنی جگہ جوں کا توں کھڑا رہا۔

کتنے ہی لوگوں نے زر دولت کے ذخیرے کی خواہش میں اپنی زندگی تباہ و برباد کر ڈالی۔ لوگ غیر قانونی طریقے سے سمندر پار کرکے ترکی اور یونان کے راستے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انسانی سمگلنگ کے ایجنٹ ایسے لوگوں کو خفیہ راستوں سے چوری باہر بھیجتے ہوئے طرح طرح کے ظلم ڈھاتے ہیں۔ کبھی یہ لوگ کنٹینروں میں سفر کرتے ہوئے چیکنگ سے بچنے کے لیے ڈرموں کے نیچے بند کر دیئے گئے اور دم گھٹنے سے مر گئے۔ کبھی کھلے سمندر میں لانچ پر سفر کرتے ہوئے یونانی پولیس کی فائرنگ سے مارے گئے۔

صاحب مبارک دو بھائیوں کا واقعہ سنا رہے تھے کہ دوران سفر انتہائی دشوار گزار راستوں پر چلتے ہوئے ان کے پاس اشیائے خورونوش ختم ہوگئیں حتیٰ کہ پورے قافلے میں سے ایک شخص کے پاس بوتل میں چند گھونٹ پانی آن بچا۔ سنگلاخ پہاڑی راستے پر اس کا بھائی تھکاوٹ سے نڈھال ہو کر گر گیا اور چند گھونٹ پانی کے لیے التجاء کی۔ چونکہ بھوک پیاس کی وجہ سے سبھی کی حالت ابتر تھی۔ سگے بھائی نے یہ کہہ کر پانی دینے سے انکار کر دیا” یہی چند گھونٹ بچے ہیں اگر یہ تمہیں دے دوں گا تو خود پیاس سے مر جاؤں گا”۔

صاحب مبارک اکثر کیف و مستی کی حالت میں ایک حدیث قدسی کا مفہوم ارشاد فرمایا کرتے ہیں کہ اللہ فرماتا ہے جب بندہ اپنے اوقات میں سے میرے ذکر کے لیے وقت نکالتا ہے میں اس کا دل سکون سے اور ہاتھ رزق سے بھر دیتا ہوں اور جب وہ میرے ذکر کے لئے وقت نہیں نکالتا میں اس کے ہاتھ مصروف اور دل بے چین کر دیتا ہوں۔

بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ نے کیا خوب ارشاد فرمایا۔

رکھی سکھی کھا ئی کے ٹھنڈا پانی پی
ویکھ پرائی چوپڑی نہ ترسائیں جی

اللہ پاک ہمارے گناہ معاف فرمائے ہمیں نیکی پر استقامت عطا فرمائے اور اپنے فضل سے ہمیں دونوں جہان کی آسانیاں عطا فرمائے۔ آمین

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے