شالا زنگ نا لگے
کوئی بھی مشینری ہے اسے اگر مسلسل نہ چلایا جائے تو وہ خراب ہو جاتی ہے، لوہا پڑا رہے تو زنگ آلود ہو جاتا ہے، لکڑی پڑی رہے تو گھن لگ جاتا ہے کتاب بند پڑی رہے کوئ اسے نا کھولے تو اسے بھی گھن لگ جاتا ہے
صاحب مبارک نے مزید ارشاد فرمایا کہ ہم نے لفٹ لگوانی تھی سرکار میاں صاحب مبارک کے لیے کے سرکار مبارک کو ڈاکٹروں نے سیڑھیاں اترنے چڑھنے سے منع کیا ہوا ہے اسی طرح ہوا سرکار آئے لفٹ میں بٹھایا گیا اور لفٹ نیچے کی گئی سرکار نے محفل میں شرکت فرمائی اور کافی زیادہ خوش ہوئے اور بہت دعائیں دیں پھر اختتام پر واپس لفٹ میں بیٹھا کر اوپر لے آیا گیا
تو ہمیں لفٹ کی ضرورت صرف سرکار مبارک کے لیے ہی تھی اس کے بعد ہمیں اس کی ضرورت نہیں تھی اب ہم نے انجینر صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اسے روزانہ چلایا جائے نہیں تو یہ خراب ہو جائے گی
صاحب مبارک نے حکم ارشاد فرمایا کہ اسی طرح جو بندہ صاحب توجہ ہے تو وہ بیٹھے لوگوں کو توجہ کرے جو بندہ توجہ لیتا ہے وہ لے اور جو ذکر کرتا ہے وہ ذکر کرے اس میں کوتاہی نا کرے
جو بندہ ذکر سے منہ پھیر لیتا ہے اسکی روزی تنگ کر دی جاتی ہے فرمایا گیا ان لوگوں کو قیامت والے دن نابینا اٹھایا جائے گا وہ کہیں گے ہم تو بینا تھے تو ارشاد ہو گا کہ اگر تم بینا ہوتے تو میرے راستے سے کیوں ہٹتے
یہ بہت بڑی نعمت ہے اس کی قدر کریں
صاحب مبارک فرماتے ہیں میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ میری اتنی بڑی مسجد بن جائے گی آپ فرماتے ہیں میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ میرے مرید ریحان والا شریف سے باہر سے بھی ہوں گے اب جدھر چلا جاوں بہاریں لگی ہوئی ہیں
صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے محفل شروع کروائی پہلے دن ایک بندے کو ذکر دیا اور اسے کہا کہ کسی کو بتانا نہیں ہے اس نے کہا ٹھیک ہے دوسرے دن وہ دو بندے اور لے آیا کہتا ہے یہ بندے بھی بہت مخلص ہیں انہیں بھی بتائیں يہ آگے نہیں بتائیں گے
ایک دن محفل ہو رہی تھی تو ایک بندے کو وجد ہو گیا اپنا گریبان پکڑ کر اونچی اونچی پکار رہا تھا میری توبہ میری توبہ تو گاؤں میں شور پڑ گیا کوئی کہے شاہ صاحب نے جن نکالے کوئی کہے شاہ صاحب کو تنگ کرتا تھا تو شاہ صاحب نے اس پر جن چھوڑ دیے کوئی کیا کوئی کیا کہہ رہا تھا
ایسے ہی کرتے کرتے پوری مسجد بھری ہوتی تھی اور پھر ایک دن ایسا آیا کہ کچھ لوگوں کی وجہ سے جمعہ والے دن صرف دوچار بندے رہ گے تھے لیکن سرکار مبارک فرماتے ہیں کہ میں نے بیٹھنا نہیں چھوڑا توجہ کرتا رہا کرتا رہا اور آج دیکھیں جدھر بھی جاتا ہوں لوگ استقبال کرتے ہیں بہت عزت کرتے ہیں پورے پاکستان بلکہ پاکستان سے باہر بھی مریدین ہیں
تو جیتنے بھی سالکین ہیں جن کو ارشاد خط ہو چکا وہ توجہ کیا کریں محافل کروایا کریں لوگوں کی اصلاح میں اپنی بھی اصلاح ہو جاتی کہ جب ہم لوگوں کو کہیں کے شلوار ٹخنوں سے اوپر کریں خود بھی کریں گے، لوگوں کو کالر والے کپڑوں سے منع کریں گے تو خود بھی ویسے کپڑے ہی پہنے گے، لوگوں کو کہیں گے کہ تکبیر اولی کے ساتھ نماز پڑھیں تو خود بھی پڑھیں گے
اور ساتھ میں رابطہ بھی رکھا جائے رابطہ ہے تو سب کچھ ہے رابطہ نہیں تو کچھ نہیں
صاحب نے ارشاد فرمایا کرنل سرفراز صاحب 7 بھائی ہیں 6 نے رابطہ رکھا سب کہ مدرسے ہیں خانقاہیں ہیں مساجد ہیں بہت وسیع کام ہے لیکن ایک بھائی نے رابطہ نہیں رکھا ہے وہ بھی سرکار مبارک کا مرید تو ہے ڈاکٹر ہے بہت بڑا سرجن ہے بڑے بڑے ڈاکٹر اُن سے آپریشن کرواتے ہیں وہ محنت بھی دوسرے بھائیوں سے زیادہ کرتے ہیں لیکن ان کا اپنا گھر بھی نہیں کرائے کے مکان میں رہتے ہیں نا مسجد نا مدرسہ۔
اللّٰہ کرے اس مشین کو زنگ نا لگے اللّٰہ کرے توڑ چڑھ جائے
آمین آمین بجاہ النبی الکریم